18 اکتوبر 2010 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرڈاکٹراحمدی نژاد، لبنانی وزیراعظم سعد حریری اور لبنانی پارلیمنٹ کے سربراہ نبیہ بری نے سیدحسن نصراللہ کے انکشافات اور حزب اللہ کےثبوت اہم اور ناقابل انکار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ثبوتوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کےصدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے حزب اللہ کے سربراہ کی جانب سے رفیق حریری قتل میں صہیونی ریاست کے ملوث ہونے کے بارے میں پیش کی جانے والی دستاویزات کو اہم قرار دیا ہے۔صدراحمدی نژاد نے کل بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ایک شخص کو پیچیدہ کاروائياں کرکے قتل کرتے ہیں اور پھر اس شخص کے دوستوں پر الزام لگاتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سےبدظن کرتےہيں۔

1

انھوں نے کہا: رفیق حریری کےقتل کےبارےمیں بھی صہیونیوں نےپہلے شام پر پھر دوسروں پرالزام لگایا اور اب حزب اللہ پر الزام لگا رہے ہیں ۔صدراحمدی نژاد نے نے کہا: صہیونی ریاست مسائل پیدا کرنےکےلئے علاقے پر مسلط کی گئی ہے اور صہیونی اپنی ماضی کی ناکامیوں کی تلافی کےلئے لبنان کےاندرتفرقہ اندازی کو بہترین اوزار سمجھتے ہيں لیکن جلد ہی ان کی یہ چال بھی ناکام ہوجائےگی۔ ادھر لبنانی وزیر اعظم اور مقتول رفیق حریری کے فرزند سعد حریری حریری نے اپنے والد کے قتل کیس کے بارے میں سیدحسن نصراللہ کے انکشافات اور حزب اللہ کےثبوتوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "سید حسن نصر اللہ کا موقف لبنانی عوام کا موقف ہے اور ان کے پیش کردہ ٹھوس اور مدلل شواہد کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

لبنان کے وزیر اعظم زور دے کر کہا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کا حالیہ خطاب اور ان کے پیش کردہ مدلل اور ٹھوس شواہد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔قبل ازیں لبنان کے سابق وزرائے اعظم نے بھی حزب اللہ لبنان کے سربراہ کے بیان کو مضبوط، مستحکم اور مدلل قراردیا تھا۔ لبنانی اخبار السفیر کے مطابق لبنان کے وزیراعظم سعد حریری نے زور دے کر کہا ہے حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کا حالیہ خطاب اور ان کے پیش کردہ مدلل اور ٹھوس شواہد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔قبل ازیں لبنان کے سابق وزرائے اعظم عمر کرامی اور سلیم الحص نے بھی حزب اللہ لبنان کے سربراہ کے بیان کو مضبوط، مستحکم اور مدلل قراردیا تھا۔

سعد حریری نے اس سلسلے میں فرانس کے صدر سرکوزی اور اس کے بعد ریاض میں ملک عبداللہ سے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔

سلیم الحص

السفیر کے مطابق حریری نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ کا بیان بہت ہی اہم اور حساس ہے اور حزب اللہ کے سربراہ سابق وزير اعظم رفیق حریری کے قتل کیس کے سلسلے میں صحیح شواہد اور حقائق کی بنیاد پر تحقیق کے مکمل حامی ہیں۔سعد حریری نے کہا ہے کہ جو شواہد سید حسن نصر اللہ نے بیان کئے ہیں  ان پر بین الاقوامی عدالت کو توجہ مبذول کرنی چاہئے۔

لبنان کے وزیر اعظم نے کہا کہ سید حسن نصر اللہ کے پیش کردہ شواہد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انھوں نے کہا کہ سید حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں لبنانی عوام کی ترجمانی کی ہے۔ادھر لبنانی پارلیمان کے سربراہ نبیہ بری نے کہا ہے کہ لبنانی حکومت کو حزب اللہ کے ٹھوس اور مدلل شواہد پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ نبیہ بری نے اخـبار السفیر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے جو ٹھوس اور مستحکم شواہد پیش کئے ہیں لبنانی حکومت کو ان پر خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہئے۔ انھوں نے کہا: سید حسن نصراللہ کے پیش کردہ ٹھوس اور ناقابل انکار ثبوتوں کے پیش نظر لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری قتل کیس کی تحقیق میں اسرائیل کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ انھوں نے امریکہ کی جانب سے لبنان کی فوجی مدد روکنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ چاہتا ہے کہ یہ ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال نہ ہوں تو اس کیا مطلب یہ ہے کہ یہ ہتھیار لبنانی خانہ جنگي میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوں۔واضح رہے کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے حال ہی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لبنان میں اسرائیلی جاسوسوں کی سرگرمیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے گرفتار شدہ  جاسوسوں نے اعتراف کیا ہے کہ رفیق حریری قتل میں اسرائیل ملوث ہے اور امریکہ اور برطانیہ اسرائیل کو بچانے کے لئے یہ الزام حزب اللہ پر عائد کرکے لبنان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کررہے ہیں۔سیدحسن نصراللہ کے انکشافات اور حزب اللہ کےثبوت:

- حریری قتل کیس؛ سیدحسن نصراللہ کے سنسنی خیزانکشافات